الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقِ الْعَبْدِ
غلام کی طلاق کا بیان
حدیث نمبر: 7168
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ يَعْنِي أَبَا الْحَسَنِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ اِمْرَأَتَهُ بِطَلِقَتَيْنِ ثُمَّ عُتِقَا أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ عَمَّنْ؟ قَالَ: أَفْتَى بِذٰلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ عَبْدُ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ) قَالَ أَبِي: قِيلَ لِمَعْمَرٍ يَا أَبَا عُرْوَةَ! مَنْ أَبُو حَسَنٍ هٰذَا؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً۔
۔ (دوسری سند) ابو حسن سے ہی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا، جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دی ہوں، پھر وہ دونوں آزاد ہو جائیں،تو کیاوہ اس لونڈی کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ کسی نے کہا: تم یہ کس سے بیان کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی چیز کا فتویٰ دیا تھا۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں:میرے باپ اما م احمد رحمہ اللہ علیہ نے کہا: معمر سے پوچھا گیا: یہ ابو حسن کون ہے؟ اس نے ایک بڑی بھاری چٹان اٹھائی ہے (یعنی بے بنیاد سی بات کی ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7168]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3088»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یَنْکِحُ الْعَبْدُ امْرَأَتَیْنِ وَیُطَلِّقُ تَطْلِیْقَتَیْنِ۔ … غلام دو عورتوں سے طلاق کر سکتا ہے اور دو طلاقیں دے سکتا ہے۔ (ارواء الغلیل: ۲۰۶۷، دارقطنی: ۲/ ۲۴۲، بیہقی: ۷/ ۴۲۵)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3088
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7168 in Urdu