الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب الأشهاد عليها وبما تحل المطلقة ثلاثا لزوجها الأول
رجوع کرتے وقت گواہ بنا نے اور اس چیز کا بیان کہ تین طلاق والی عورت پہلے خاوند کے لیے کیسے حلال ہو گی
حدیث نمبر: 7179
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتِ الْغُمَيْصَاءُ أَوِ الرُّمَيْصَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا وَتَزْعَمُ أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ زَوْجُهَا فَزَعَمَ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ
۔ سیدنا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے خاوند کی شکایت کی اور اس نے یہ تاثر بھی دیا کہ اس کا خاوند اس تک پہنچ نہیں پاتا (یعنی اس میں جماع کی صلاحیت نہیں ہے)،تھوڑی دیر تک اس کا خاوند بھی آ گیا اور اس نے بتایا کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ کسی طرح پہلے خاوند کے پاس چلی جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: اس کی تجھے اس وقت تک اجازت نہیں، جب تک دوسرا مرد تجھ سے بذریعہ نکاح لطف اندوز نہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7179]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 48، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1837»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7179 in Urdu