الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب اللعان عَلَى الْعُدْرَةِ وَهِي بِضَمُ الْعَيْنِ الْمُهْمَلَةِ وَسَكُون الدَّالِ الْمُعْجَمَةِ مَا لِلْبِكْرِ مِنَ الانْتِحَامِ قَبْلَ الْاقْتِضَاض
کنواری لڑکی کی بکارت زائل ہو جانے کی وجہ سے لعان کرنے کا مسئلہ
حدیث نمبر: 7205
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عَجْلَانَ فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ قَالَ فَرُفِعَ شَأْنُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ بَلَى قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ قَالَ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ ایک شخص نے بنوعجلان کی ایک انصاری خاتون سے شادی کی، وہ اس کے پاس گیا اور اس کے پاس رات گزاری، جب صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ میں نے اس عورت کو کنوارا نہیں پایا، جب ان دونوں کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکی کو بلا کر اس معاملے کے بارے میں دریافت کیا، اس لڑکی نے جواباً کہا: میں تو کنواری ہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو لعان کرنے کا حکم دیا اور اس لڑکی کو حق مہر بھی دلوایا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7205]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتدليس محمد بن اسحاق، أخرجه ابن ماجه: 2070، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2367»
وضاحت: فوائد: … پردۂ بکارت کے پھٹ جانے کی بنا پر نہ لعان درست ہے اور نہ اس وجہ سے برائی کی تہمت لگائی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ پردہ بدکاری کے علاوہ کسی اور چیز سے بھی متأثر ہو سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لتدليس محمد بن اسحاق
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7205 in Urdu