الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بابُ أَنَّ الْوَلَد لِلْفِرَاشِ دُونَ الزَّانِي وَمَا جَاءَ فِي الْحَاقِ الْوَلَدِ وَدَعْوَى النَّسَبِ
اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7216
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ قَالَ إِنَّ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبِي زَمْعَةَ مَاتَ وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ وَإِنَّا كُنَّا نَظُنُّهَا بِرَجُلٍ أَنَّهَا وَلَدَتْ فَخَرَجَ وَلَدُهَا بِشِبْهِ الرَّجُلِ الَّذِي طَنَنَّاهَا بِهِ قَالَتْ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهَا أَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ فَلَيْسَ بِأَخِيكِ وَلَهُ الْمِيرَاثُ
۔ آل زبیر کے مولی مجاہد بیان کرتے ہیں، زمعہ کی بیٹی یعنی ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے کہا: میرے باپ زمعہ فوت ہو چکے اور ایک لونڈی ام ولد جس سے بچہ پیداہوا ہے، چھوڑ گئے ہیں، ہم اسے ایک آدمی (عتبہ بن ابی وقاص) کے ساتھ تہمت لگاتے تھے کہ اس نے اس سے زنا کیا ہے، اتفاق ایسا ہے کہ جو بچہ اس نے جنم دیا ہے، وہ اسی عتبہ کے مشابہ ہے، جس کے ساتھ ہم نے تہمت لگائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا: تم اس سے پردہ کیا کرو، وہ تیرا بھائی نہیں ہے، البتہ اسے وراثت ملے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7216]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف، مولي آل الزبير وھو يوسف بن الزبير مجھول الحال، لكن قوله: احتجبي منه صحيح من حديث عائشة كما تقدم في الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27964»
الحكم على الحديث:
ھذا اسناد ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7216 in Urdu