🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بابُ أَنَّ الْوَلَد لِلْفِرَاشِ دُونَ الزَّانِي وَمَا جَاءَ فِي الْحَاقِ الْوَلَدِ وَدَعْوَى النَّسَبِ
اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7219
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ يُسْتَلْحَقُ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يُلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لَا يُلْحَقُ وَلَا يَرِثُ وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ الَّذِي ادَّعَاهُ وَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ جاری فرمایا ہے کہ ایک لڑکا یا لڑکی جس کے نسب کو اس کے باپ کے ساتھ ملایا گیا ہو، جس کے نام پر اسے پکارا جاتا ہے اور ملایا گیا ہو، اس کے باپ کے مرنے کے بعد اور پھر اس مرنے والے باپ کے اس کے بعد اس لڑکے یا لڑکی کے دعویدار بھی ہوں کہ یہ اس کا ہے اور اس لونڈی کے بارے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا گیا کہ جس کا وہ اس دن مالک بنا ہو جس دن اس سے جماع کیا تھا اس اولاد کے نسب کو اس کے ساتھ ہی ملایا جائے گا، جس نے اس کے نسب ملانے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اس کے نسب کے ملانے سے پہلے جو اس کے باپ کی وراثت تقسیم ہو چکی ہو، اس میں سے اس ملائے گئے کو کچھ حصہ نہ ملے گا اور جو وارثت ابھی تقسیم نہیں ہوئی اس کو اگر پا لے تو اس میں سے اس ملائے گئے کوحصہ ملے گا اور اس لڑکے یا لڑکی کے ملانے کا اگر وہ شخص جس کے لیے پکارا جاتا ہے انکار کر دے اور اگر وہ اس کی اس لونڈی سے ہو جس کا وہ مالک نہ تھا یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس صورت میں اسے نہ تو اس کے نسب سے ملایا جائے گا اور نہ ہی لڑکا یا لڑکی اس کا وارث ہو گا۔ اور اگر اس لڑکی یا لڑکے کا وہ باپ جس کے لیے اسے پکارا جاتا ہے اس کا دعویٰ کرے تو وہ لونڈی سے ہو یا آزاد سے ہو تو وہ ولد الزنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7219]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2265، وابن ماجه: 2746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7042»
وضاحت: فوائد: … اس سے ثابت ہواکہ ایک آدمی کی بیوی ہے جس سے اس نے نکاح کیا ہے یا لونڈی ہے اس سے جماع کیا ہے اس سے اگر بچی یا بچہ پیدا ہوتا ہے اور اتنی مدت میں ہوتا ہے جس میں بچہ پیدا ہونے کا امکان ہے جو کہ چھ ماہ کی مدت ہے وہ عورت اس خاوند کے بستر پر بچی یا بچہ کوجنم دیتی ہے اب اگرچہ وہ اس آدمی کا ہم شکل ہو یا وہ بچی یا بچہ اس کا ہم شکل نہ ہو اسے اس آدمی کے نسب کے ساتھ ہی ملایا جائے گا اور یہ بچی یا بچہ اس کا وارث بھی ہو گا یہ تو اس آدمی کی زندگی میں ہو گا اگر وہ آدمی فوت ہو جائے اور اس کے ورثا اگر اس بچی یا بچے کا نسب اس کی وفات کے بعد بھی ملائیں تو نسب ا سے ملایا جائے گا لیکن اگر وہ آدمی جس کی طرف اس بچی یا بچے کی نسبت کی جا رہی ہے وہ اس بچی یا بچے کی نسبت سے انکار کرے تو پھر یہ اس آدمی کا نہ تو نسب شمار ہو گا اور نہ ہی یہ بچی یا بچہ اس کا وارث ہو گا یہی صورت تب بھی ہو گی جب ایسی لونڈی سے بچہ ہو جو اس آدمی کی ملکیت نہیں اور آزاد عورت سے ہو مگر اس سے زنا کیا ہو اس کا نہ تو نسب ثابت ہو گا نہ ہی یہ بچہ اس آدمی کا وارث ہو گا اگر یہ آدمی اس بچے کا دعویٰ بھی کرے گا تو یہ زانی ہو گا اور بچہ ولد زنا شمار ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 7219 in Urdu