الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بابُ أَنَّ الْوَلَد لِلْفِرَاشِ دُونَ الزَّانِي وَمَا جَاءَ فِي الْحَاقِ الْوَلَدِ وَدَعْوَى النَّسَبِ
اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7222
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُمْ بَعْدَ إِنْكَارِهِمْ إِنَّكُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَقَالَ إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ قُرِعَ أَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيِ الدِّيَّةِ وَأَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے انکار کے بعد ان سے کہا: تم ایسے شریک ہو، جو آپس میں جھگڑنے والے ہو، اب میں تمہارے درمیان قرعہ ڈالوں گا، تم میں سے جس کے نام بھی قرعہ نکلے گا، اسے دیت کے تین میں سے دو حصے ادا کرنے کی چٹی ڈالوں گا اور بچہ بھی لازمی اسے ہی لینا پڑے گا، جب اس فیصلہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو فیصلہ علی نے کیا ہے، وہی سمجھ آتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7222]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19557»
وضاحت: فوائد: … یہ واقعہ دورِ جاہلیت کا تھا، کیونکہ اسلام میں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ تین آدمی ایک طہر میں ایک عورت سے جماع کریں، چونکہ جاہلیت کے کاموں پر سزا نہیں دی جا سکتی تھی، بلکہ اس دور کے تصرفات کو قانونی طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا کہ جو ہوا سو ہوا، آئندہ کے لیے منع ہے، اس لیے اس واقعہ کا حل بھی ضروری تھی، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خداداد ذہانت سے تجویز فرمایا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19557
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7222 in Urdu