الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. نابُ أَيْنَ تَعْتَدُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ أَمْ لَا؟
متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کہاں عدت گزارے گی، آیا ایسی عورت کو نان و نفقہ دیا جائے گا
حدیث نمبر: 7243
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا قَالَ فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا قَالَ وَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ إِنَّ مَوَالِيَهَا اشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ (وَقَالَ هَمَّامٌ مَرَّةً عِدَّةَ الْحُرَّةِ) قَالَ وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر ایک سیاہ رنگ کا غلام تھا،اس کو مغیث کہا جاتا تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ کے پیچھے پیچھے روتا تھا اور آنسو بہاتا تھا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں چار فیصلے نافذ کیے: اس کے آقاؤں نے شرط لگائی تھی کہ ولاء ان ہی کے لیے ہو گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ولاء کی نسبت اس کے لیے ہے، جس نے آزاد کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بریرہ کو مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا تھا اور انھوں نے اپنے نفس کو اختیار کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد خاتون کی عدت گزارنے کا حکم دیا، اور سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا، پس اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی اس سے دیا، جب سیدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بریرہ کے لیے صدقہ ہے، ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7243]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه مختصرا بنحوه البخاري: 5280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3405»
وضاحت: فوائد: … اگر میاں بیوی دونوں غلامی میں ہوں تو بیوی کو آزاد کر دیا جائے تو اسے اپنے غلام خاوند کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7243 in Urdu