الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ نَفَقَةِ الْمُطَلَّقَةِ الْبَائِنِ وَسُكْنَاهَا وَخُرُوجِهَا لِلْحَاجَةِ
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
حدیث نمبر: 7246
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا عَمْرٍو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَكَرِهْتُهُ فَقَالَ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ لِي فِيهِ خَيْرًا
۔ (تیسری سند)سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ابو عمرو بن حفص نے مجھے طلاق بائنہ دے دی اور وہ خود یہاں موجود نہ تھے، پھر اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اورپھر کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسامہ سے نکاح کر لو۔ میں نے اسے ناپسند کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: بس تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔ تو میں نے آپ کے حکم پر ان سے نکاح کر لیا اوراس میں اللہ تعالیٰ نے بہت خیر پیدا فرمائی۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7246]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27871»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے مختلف مجلسوں میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، چونکہ تین طلاقوں کے بعد خاوند کو رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا، اس لیے وہ ایسی خاتون کے نان و نفقہ اور رہائش کا ذمہ دار بھی نہیں ہوتا، ایسی عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کسی مناسب جگہ پر عدت گزار سکتی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27871
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7246 in Urdu