الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ نَفَقَةِ الْمُطَلَّقَةِ الْبَائِنِ وَسُكْنَاهَا وَخُرُوجِهَا لِلْحَاجَةِ
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
حدیث نمبر: 7252
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ کو طلاق ہو گئی، وہ ابھی تک عدت میں تھیں، لیکن انہوں نے چاہا کہ وہ کھجوروں کا پھل اتار لائیں، ایک آدمی نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیااور کہا کہ وہ باہر نہ جائیں، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل اتار سکتی ہو، ممکن ہے کہ تم اس سے صدقہ کرو یا نیکی کا کوئی کام سر انجام دو۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7252]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14498»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر عورت کا کام کرنے والا اور کوئی نہ ہو تو وہ دوران عدت باہر جا سکتی ہے، خصوصاً جب نیکی کے کام یا صدقہ و خیرات کرنا ہو تو پھر تو بہت بہتر ہے، بشرطیکہ مجبوری ہو، حتی الامکان باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1483
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7252 in Urdu