الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب من أحق بحضانة الطفل بعد الام
اس چیز کا بیان کہ ماں کے بعد پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے
حدیث نمبر: 7279
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ اتَّبَعَتْنَا ابْنَةُ حَمْزَةَ فَنَادَتْ يَا عَمِّ يَا عَمِّ فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَنَاوَلَتْهَا فَاطِمَةُ قُلْتُ دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ اخْتَصَمْنَا فِيهَا أَنَا وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ فَقُلْتُ أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي وَقَالَ زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي وَقَالَ جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ خُلُقِي وَخَلْقِي وَقَالَ لِزَيْدٍ أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا وَقَالَ لِي أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ادْفَعُوهَا إِلَى خَالَتِهَا فَإِنَّ الْخَالَةَ أُمٌّ فَقُلْتُ أَلَا تُزَوِّجُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم مکہ سے نکلے، حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چل پڑی اور آواز دی: میرے چچا جان! میرے چچا جان! سو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کرتے ہوئے کہا: یہ تیرے چچا کی بیٹی ہے، اس کو اپنی نگہداشت میں رکھ۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو اس کے بارے میں، زید رضی اللہ عنہ اور جعفر رضی اللہ عنہ تینوں جھگڑنے لگے۔ میں نے کہا: میں اس کو لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ زیدنے کہا: یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور جعفر نے کہا: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (فیصلہ کرتے ہوئے) جعفر سے فرمایا: تو پیدائشی اور اخلاقی اوصاف میں میرے مشابہ ہے۔ زید سے فرمایا: تو ہمارا بھائی اور دوست ہے۔ اور مجھ (علی) کو فرمایا: تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ اس طرح کرو کہ یہ بچی اس کی خالہ کے حوالے کر دو، کیونکہ خالہ ماں ہی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے شادی کیوں نہیں کرلیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان تربية الأطفال/حدیث: 7279]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 3/ 120، وابويعلي: 526، والبزار: 744، وأخرجه ابوداود دون ذكر فضائل الثلاثة: 2280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 770»
وضاحت: فوائد: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماں کے بعد بچے کی سب سے زیادہ حقدار اس کی خالہ ہے، جیسا کہ شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچے یا بچی کی پرورش کے سلسلہ میں اس کی خالہ، اس کی ماں کے قائم مقام ہے۔ اس بات پر تو اجماع ہو چکا ہے کہ اس سلسلے میں ماں سب سے زیادہ مستحق ہے اور اس حدیث میں دی گئی تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی خالہ، اس کے باپ، نانیوں اور پھوپھیوں سے زیادہ مستحق ہے۔ (عون المعبود)
الحكم على الحديث: اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7279 in Urdu