الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُ
سانڈا کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7298
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي يَعْنِي الضِّبَابَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمْ يُجَاوِزْ إِلَّا قَرِيبًا فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ فَعَاوَدَهُ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمُسِخُوا دَوَابَّ فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ بَعْضُهَا فَلَسْتُ بِآكِلِهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک دیہاتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے گھروالوں کا زیادہ ترکھانا سانڈے ہیں آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑا سے گزرے تو اس نے پھر یہی سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، جب اس نے تین بار یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک نسل پر لعنت و غضب کیا تھا اور وہ جانوروں کی صورت میں مسخ کر دیئے گئے تھے، بس اب میں نہیں جانتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی ان میں سے ہو، سو نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ میں اس کے کھانے سے منع کرتاہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7298]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1951، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11621»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1951
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7298 in Urdu