الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُ
سانڈا کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7302
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ قَالَ فَأَصَبْنَا مِنْهَا وَذَبَحْنَا قَالَ فَبَيْنَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فُقِدَتْ وَفِي رِوَايَةٍ مُسِخَتْ وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هِيَ فَأَكْفِئُوهَا فَأَكْفَأْنَاهَا وَفِي رِوَايَةٍ فَأَكْفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم ایک علاقے میں اترے، وہاں سانڈے بہت زیادہ تھے، ہم نے ان کو حاصل کیا اور ذبح کیا اور پکانا شروع کر دیا، ہماری ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورفرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت گم پائی گئی، ایک روایت میں ہے کہ مسخ کی گئی، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ امت یہی سانڈے ہو، لہٰذا ہنڈیاں الٹ دو۔ پس ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، حالانکہ ہم سخت بھوک سے دو چار تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7302]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 1217، وابويعلي: 931، وابن حبان: 5266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17909»
وضاحت: فوائد: … ضَبّ (سانڈا)جنگلی چوہے کے مشابہ ایک جانور ہے، لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی مادہ کو ضَبّۃ کہا جاتا ہے، ہمارے ہاں عموماً اس کا معنی گوہ کیا جاتا ہے، لیکن جو اوصاف ضب کے بیان کیے گئے ہیں، وہ تمام کے تمام سانڈے میں پائے جاتے ہیں، اس لیے درست بات یہی ہے کہ اس سے مراد سانڈا ہے، گوہ نہیں، واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7302 in Urdu