الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُعِ
بجو کے حلال ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7304
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي نَاسٌ مِنْ قَوْمِي أَنْ أَسْأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ سِنَانٍ يُحَدِّدُونَهُ وَيُرَكِّزُونَهُ فِي الْأَرْضِ فَيُصْبِحُ وَقَدْ قَتَلَ الضَّبُعَ أَتُرَاهُ ذَكَاتَهُ قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَإِذَا عِنْدَهُ شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِي وَإِنَّكَ لَتَأْكُلُ الضَّبُعَ قَالَ قُلْتُ مَا أَكَلْتُهَا قَطُّ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي لَيَأْكُلُونَهَا قَالَ فَقَالَ إِنَّ أَكْلَهَا لَا يَحِلُّ قَالَ فَقَالَ الشَّيْخُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي خِطْفَةٍ وَعَنْ كُلِّ نُهْبَةٍ وَعَنْ كُلِّ مُجَثَّمَةٍ وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ قَالَ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ صَدَقَ
۔ عبد اللہ بن یزید سعدی کہتے ہیں: میری قوم میں سے کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے دریافت کروں کہ لوگ نیزے کی نوک تیز کر کے اسے زمین پر گاڑھ دیتے ہیں، اس سے بجو مارا جاتا ہے، کیا اس طرح ذبح کرنا آپ کی رائے میں درست ہے؟ پس میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھ گیا، ان کے پاس ایک بزرگ تشریف فرما تھے، جن کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ شامی تھے، میں نے اس بارے میں ان سے دریافت کیا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تو بجو کھاتا ہے؟ میں نے کہا: میں نے تو کبھی نہیں کھایا، البتہ میری قوم کے لوگ کھاتے ہیں، انہوں نے کہا: بجو کھانا حلال نہیں، بزرگ نے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا میں تجھے وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بیان کریں، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چیزوں سے منع کیا ہے: زندہ جانور سے کاٹ لیے جانے والا حصہ، لوٹا ہوا مال، جس جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بنایا جائے اور ہر کچلی والا درندہ۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں: بزرگ نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7304]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28062»
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7304 in Urdu