الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء فى طعام أهل الكتاب
اہل کتاب کے کھانے کا حکم
حدیث نمبر: 7326
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ يَعْنِي الذِّكْرَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ طَعَامٍ لَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ لَا تَدَعْ شَيْئًا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ حاتم طائی صلہ رحمی کرتے تھے اور کئی نیک کام کرتے تھے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے والد نے جس کام کا ارادہ کیا تھا، اس نے اس کو پا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد شہرت اور نمود و نمائش تھی،میں نے کہا: اچھا میں آپ سے ایسے کھانے کے متعلق سوال کرتا ہوں، جسے میں شک اور حرج کی بنا پر ہی چھوڑ دیتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایسی چیز کو نہ چھوڑ، جس میں نصرانیت کی مشابہت ہو رہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7326]
تخریج الحدیث: «قوله ان اباك اراد امرا فادركه حسن، والباقي ضعيف لجھالة مري بن قطري، أخرجه ابوداود الطيالسي: 1033، 1034، وابن حبان: 332، والطبراني في الكبير: 17/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18451»
وضاحت: فوائد: … حاتم مذہباً عیسائی تھا، دورِ جاہلیت میں فوت ہو گیا تھا، جود و سخاوت میں عدیم النظیر تھا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سخاوت اور دوسرے اچھے خصائل کا مقصد شہرت اور تعریف کا حصول تھا، نہ کہ رضائے الہی کی تلاش اور ایسے ہی ہوا۔حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میںکہا: حاتم ایک سخی آدمی تھا، دور جاہلیت میں اس کی بڑی تعریف کی جاتی تھی، اس کے بیٹے نے اسلام کو پا لیا تھا۔ حاتم اپنی سخاوت میں عجیب امور اور غریب اخبار والا تھا، لیکن اس کا مقصد شہرت طلبی اور ریاکاری تھا، نہ کہ اللہ تعالی کی ذات اور آخرت۔
الحكم على الحديث: قوله ان اباك اراد امرا فادركه حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7326 in Urdu