🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. أبواب ما يحرم أكله
حرام کھانوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7328
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ فَذَبَحُوهَا وَمَلَئُوا مِنْهَا الْقُدُورَ فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَابِرٌ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقٍ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ ذَا وَأَطْيَبُ مِنْ ذَا قَالَ فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ وَالْخِلْسَةَ وَالنُّهْبَةَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن لوگوں کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی، پس انہوں نے گھریلو گدھے پکڑ کر ذبح کئے اور ہنڈیاں بھر بھر کر انہیں پکانا شروع کر دیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہنڈیاں الٹ دو، سو ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عنقریب تمہیں اس سے زیادہ بہتر اور حلال رزق عنایت فرمائیں گے۔ ہم نے اس دن ہنڈیاں الٹ دیں، جبکہ وہ جوش مار رہی تھیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن گھریلو گدھوں،خچروں کا گوشت، ہر کچلی والا درندہ، پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ، وہ جانور جسے گاڑھ کر اس پر نشانہ باندھا گیا ہو، جس جانور کو درندہ چھین کر لے جائے اور وہ مر جائے اور لوٹا ہوا مال، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب چیزوں کو حرام قرار دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7328]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مختصرا الترمذي: 1478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14517»
وضاحت: فوائد: … ذِی نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ سے مراد ایسا درندہ ہے جو کچلیوں کے ساتھ شکار کرکے کھائے، مثلا شیر، بھیڑیا، چیتا، گیدڑ اور لومڑ وغیرہ۔ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال و افعال کے حجت ہونے پر قطعی اور واضح دلیل ہے، کیونکہ قرآن مجید کی رو سے ان جانوروں کا حرام ہونا ثابت نہیں ہوتا، لیکن ہر مسلمان ان کو حرام سمجھتا ہے۔ ایسے تمام جانوروں کی حرمت احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 7328 in Urdu