الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ أَحَبِّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا جَاءَ فِي تَحْمِيرِ الْإِناءِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
حدیث نمبر: 7442
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَمْ يُغَطَّ وَلَا سِقَاءٍ لَمْ يُوكَ إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانپ کر اورمشکوں کے منہ باندھ کر رکھا کرو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے کہ اس میں ایک وبا اترتی ہے اور وہ ہر اس برتن میں داخل ہو جاتی ہے، جو ڈھانپا ہوا نہ ہو اور ہر اس مشک میں اتر جاتی ہے جس کامنہ نہ باندھا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7442]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2014، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14889»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں حکم کی ایک وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے، برتن اور مشکیزے کو نہ ڈھانپنے کے مزید نقصانات بھی ہو سکتے ہیں، مثلا کسی زہریلے جانور سے متاثر ہو جانا، کوئی چیز گرنے سے پانی اور مشروب کا خراب ہو جانا، وغیرہ وغیرہ۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2014
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7442 in Urdu