الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّنَفْسِ فِي الْإِنَاءِ وَالنَّفْخِ فِيهِ
برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے
حدیث نمبر: 7471
عَنِ ابْنِ الْمُثَنَّى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ إِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ أَبِنْهُ عَنْكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ أَرَى فِيهِ الْقَذَاةَ قَالَ فَأَهْرِقْهَا
۔ ابن مثنی کہتے ہیں: میں مروان کے پاس تھا، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لائے، مروان نے ان سے کہا: کیا تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے (کے برتن) میں سانس لینے سے منع فرمایا ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اور ایک آدمی نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! میں تو ایک سانس کے دوران پیے جانے والے پانی سے سیراب نہیں ہوتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو پھر پیالے کو منہ سے دور کر کے سانس لے لیا کرو (اور پھر پی لیا کرو)۔ اس نے کہا: اگر مجھے اس میں کوئی تنکا نظر آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے بہا دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7471]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 1887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11221»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7471 in Urdu