الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّرْبِ كَرْعًا
منہ لگا کر پانی پینے کا حکم
حدیث نمبر: 7477
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ الرَّجُلُ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى الْعَرِيشِ فَسَكَبَ مَاءً فِي قَدَحٍ ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے ایک آدمی کے پاس داخل ہوئے، آپ کے ساتھ ایک صحابی رضی اللہ عنہ بھی تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تمہارے پاس وہ پانی ہے، جو مشک میں رات رہا ہو، تو وہ لے آؤ، وگرنہ ہم منہ لگا کر ہی پی لیں گے۔ وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگا رہا تھا، اس نے کہا: جی میرے پاس وہ پانی ہے، جو رات مشک میں پڑا رہا ہے، وہ دونوں کو یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی کو ایک چھپر کے نیچے لے گیا اور ایک پیالہ میں پانی ڈالا اور اس میں پالتو بکری سے دودھ دوہ کر ملایا اور پیش کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا بعد میں اس آدمی نے پیا جو آپ کے ساتھ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7477]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5613، 5621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14573»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ منہ لگا کر پانی پی لینا درست ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5613
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7477 in Urdu