🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ بِعَدَمِ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
موزوں پر مسح کی مدت کے عدم تعین کے قائلین کی دلیل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 748
عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابٍ لِعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَعَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: فَسَأَلْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَتْ: قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكُلِّ سَاعَةٍ يَمْسَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَا يَنْزِعُهُمَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) )
کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اس موضوع پر درج ذیل روایت قابل توجہ ہے: حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجتُ مِنَ الشَّامِ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمَعَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَتٰی أَوْلَجْتَ خُفَّیْکَ فِی رِجْلَیْکَ؟ قُلْتُ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَھَلْ نَزَعْتَھُمَا؟ قُلْتُ: لَا۔ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔ … میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انھوں نے پوچھا: کیا پھر ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ۱/۴۸،دارقطنی: ص۷۲، حاکم: ۱/۱۸۰ـ ۱۸۱،صحیحہ: ۲۶۲۲) جب صحابی کسی عمل یا قول کو سنت کہہ دے تو اس کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہوتی ہے۔ اس حدیث کا پچھلے باب کی احادیث سے تعارض ہے، کیونکہ ان میں مسافر کو تین دنوں کی اور اس میں سات دنوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ ان دو احادیث میں اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ سات دنوں والی روایت کو ضرورت اور جماعت کی معیت میں رہنے کی وجہ سے موزے نہ اتار سکنے پر محمول کیا جائے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 748]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي نكارة في متنه، عمر بن اسحاق بن يسار ليس بالقوي۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 199، وأخرج بنحوه ابويعلي: 7094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27364»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، نیز یہ مسح سے متعلقہ کسی خاص مسئلے پر دلالت نہیں کرتی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف علي نكارة في متنه


Al-Fath al-Rabbani Hadith 748 in Urdu