الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ ذلِكَ وَكَيْفَ كَانَ يُنبدُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَيُّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيده
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان¤نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
حدیث نمبر: 7487
عَنْ صُهَيْرَةَ بِنْتِ جَيْفَرٍ سَمِعَهُ مِنْهَا قَالَتْ حَجَجْنَا ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَدَخَلْنَا عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَافَقْنَا عِنْدَهَا نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَقُلْنَ لَهَا إِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْتُنَّ وَسَمِعْنَا وَإِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْنَا وَسَمِعْتُنَّ فَقُلْنَا سَلْنَ فَسَأَلْنَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا وَمِنْ أَمْرِ الْمَحِيضِ ثُمَّ سَأَلْنَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَتْ أَكْثَرْتُمْ عَلَيْنَا يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ وَمَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطْبُخَ تَمْرَهَا ثُمَّ تَدْلُكَهُ ثُمَّ تُصَفِّيَهُ فَتَجْعَلَهُ فِي سِقَائِهَا وَتُوكِئَ عَلَيْهِ فَإِذَا طَابَ شَرِبَتْ وَسَقَتْ زَوْجَهَا
۔ صہیرہ بنت جیفر کہتی ہیں: ہم نے حج کیا، پھر ہم مدینہ واپس لوٹیں اورہم ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، ہم نے ان کے پاس کوفہ کی رہنے والی عورتیں موجود پائیں، انہوں نے ہم سے کہا: اگر چاہو تو تم سوال کرو، ہم سنتی ہیں اور اگر چاہو تو ہم سوال کرتی ہیں اور تم سنو، ہم نے کہا: تم سوال کرو، انہوں نے میاں بیوی اور حیض کے متعلقہ کچھ امور دریافت کئے اور پھر انہوں نے مٹکے (اور گھڑے وغیرہ) میں بنائے جانے والے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا،سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عراق والیو! تم نے مٹکے کے نبیذ کے بارے میں بہت زیادہ تکرار کیا ہے، اس میں تم پر کوئی حرج نہیں کہ کھجور پکا لو، پھر اسے ہاتھ سے مل دو اور صاف کرکے اسے مشک میں رکھ لو اور پھر اس کا تسمہ بند کر دو اور جب وہ خوشگوار ہو جائے تو اسے پی لو اور اپنے خاوند کو بھی پلاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7487]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة صھيرة بنت جَيْفَر، دون قوله: حرم رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم نبيذ الجر فصحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27402»
وضاحت: فوائد: … اَلْجَرّ سے مراد وہ برتن ہے، جس کو مٹی اور پانی سے بنایا جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة صھيرة بنت جَيْفَر
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7487 in Urdu