الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنُ وَالظُّفْرُ وَمَا يُفْعَلُ بِالْبَعِيرِ النَّادِ
جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
حدیث نمبر: 7608
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْ شَاتِهَا فَأَدْرَكَتْهَا الرَّاعِيَةُ فَذَكَّتْهَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا
۔ سیدنا کعب بن مالک کا بیٹا بیان کرتا ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی لونڈی سلع پہاڑ کے دامن میں ان کی بکریاں چرا رہی تھی، ایک بکری پر بھیڑیا حملہ آور ہوا، لیکن جب اس چرواہی نے اس بکری کو زندہ پایا تو اس نے ایک پتھر کے ذریعے اس کو ذبح کر دیا، جب سیدنا کعب بن مالک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7608]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2304، 5501، 5504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15857»
وضاحت: فوائد: … اگر پتھر کی دھار تیز ہو اور وہ چھری کی طرح جسم کو چیر دے تو اس سے ذبح کرنا بھی درست ہے، درج ذیل حدیث میں ذبح والے آلے کا کلیہ بیان کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2304
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7608 in Urdu