الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى الحق على التداوي ، وأن لكل داء دواء
علاج کرنے پر آمادہ کرنے اور اس چیز کا بیان کہ ہر بیماری کی دوا ہے
حدیث نمبر: 7623
عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَدَاوَى قَالَ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ
۔ اسامہ بن شریک اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ بہتر اخلاق والا ہو۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم علاج معالجہ کروا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل علاج کرواؤ، اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی ہے، اس کی دوا بھی پیدا کی ہے اور شفاء بھی پیدا کی ہے، اسے جان لیا جس نے جان لیا اور اس سے بے خبر رہا ہے، جو بے خبر رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7623]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3855، وابن ماجه: 3436، والترمذي: 2038، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18647»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7623 in Urdu