الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ وَفَوَائِدِهَا وَ أَوْقَاتِهَا
سینگی، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
حدیث نمبر: 7645
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَقَالَ أَمْثَلُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ
۔ حمید کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے کی کمائی کے متعلق سوال کیا گیا،انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور سیدنا ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک صاع جو دینے کا حکم دیا اور ان کے آقاؤں سے مطالبہ کیا کہ انھوں نے اس پر آمدن کی جس مقدار کا تعین کر رکھا ہے، وہ اس میں کمی کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین علاج جو تم کرتے ہو، وہ سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7645]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5696، ومسلم: 1577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12914»
وضاحت: فوائد: … سینگی لگوانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قولی اور فعلی سنت ہے، اس سے جسم کا خراب اور فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم کو راحت ملتی ہے اورخون صاف ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس چیز کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے، دوبارہ اس کا احیاء ہونا چاہئے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5696
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7645 in Urdu