الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ
داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 7659
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ نَسْتَأْذِنُهُ أَنْ نَكْوِيَهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ارْضِفُوهُ إِنْ شِئْتُمْ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے پؤں کی بیماری کی وجہ سے تیمار داری کے لئے حاضر ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم داغ لگا دیں، جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، ہم نے پھر سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، جب ہم نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو گرم پتھر لگا لو۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7659]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 320، والحاكم: 4/ 416، وابن حبان: 6082، والطبراني في الكبير: 10275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4054»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7659 in Urdu