الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الشَّكِّ فِي الْحَدَثِ
بے وضگی کا شک پڑ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 766
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَّ بِهِ كَمَا يَبُسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ فَإِذَا سَكَنَ لَهُ أَضْرَطَ بَيْنَ إِلْيَتَيْهِ لِيَفْتِنَهُ عَنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا لَا يَشُكُّ فِيهِ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کو وسوسے میں ڈالنے کے لیے اس کے پاس آ کر وہ اس طرح مختلف حیلے استعمال کرتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور کو روکنے کے لیے بِس بِس کرتا ہے، جب وہ بندہ اس (شیطان سے) مانوس ہو جاتا ہے تو وہ اس کے سرینوں میں گوزمارتا ہے، تاکہ وہ اس کو نماز کے سلسلے میں فتنے میں ڈال دے۔ (تو یاد رکھو کہ) جب تم میں کوئی آدمی اس چیز کو محسوس کرے تو وہ اس وقت تک (وضو کے لیے) نہ جائے، جب تک واضح طور پر آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8351»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
Al-Fath al-Rabbani Hadith 766 in Urdu