الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِيقَةِ الطَّاعُوْنِ وَمَعْنَاهُ وَ شَهَادَةِ مَنْ مَاتَ بِهِ وَلَمْ يَفِرُّ مِنْهُ
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 7790
عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فِيهِ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يُصِبْهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طاعون کے بارے میں سوال کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ طاعون اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے، وہ جس پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے، کوئی مؤمن بندہ، جو طاعون میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے علاقہ میں صبر اورثواب کی نیت کے ساتھ ٹھہرا رہے اور اسے یقین ہو کہ اس کو وہی تکلیف پہنچے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہے، تو اس کے لیے شہید کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7790]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3474، 5734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24862»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3474
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7790 in Urdu