الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَوْتِ الْفُجَاةِ
اچانک موت کا بیان
حدیث نمبر: 7808
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِفَاجِرٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی موت مؤمن کے لئے تو باعث ِ راحت ہے اور فاجر کے لئے غضب الٰہی کا سبب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7808]
تخریج الحدیث: «اسناده واهٍ، عبيد الله بن الوليد الوصافي متروك، وعبد الله بن عبيد الله بن عمير لم يسمع من عائشة، أخرجه البيھقي: 3/ 379، والطبراني في الاوسط: 3153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25556»
وضاحت: فوائد: … چونکہ مؤمن ایسے طرز حیات اختیار کر کے رکھتا ہے کہ وہ ہر وقت موت کے لیے تیار ہوتا ہے، اس لیے اچانک موت اس کے باعث ِ رحمت ٹھہرتی ہے کہ صحت و تندرستی کی حالت میں اعمال خیر میں مصروف تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے پاس بلا لیا، امام غزالی رحمہ اللہ نے کہا: جس نے موت کی تیاری کررکھی تھی اس کے لئے یہ موت تخفیف کا باعث ہے اور جو تیار نہ تھا اس کے لئے بوجھ ہے۔ (احیاء اعلوم) امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اچانک موت اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے تخفیف ہے۔ (تہذیب)
الحكم على الحديث:
اسناده واهٍ
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7808 in Urdu