الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي الأسْوَدِ وَالاخْضَرِ وَالْمَرْعُفَرِ والْمَلونَاتِ
سیاہ، سبز، زعفرانی اور رنگین ملبوسات کا بیان
حدیث نمبر: 7932
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَصْبَغُ ثِيَابَهُ وَيَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ قِيلَ لَهُ لِمَ تَصْبُغُ ثِيَابَكَ وَتَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ قَالَ لِأَنِّي رَأَيْتُهُ أَحَبَّ الْأَصْبَاغِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَّهِنُ بِهِ وَيَصْبَغُ بِهِ ثِيَابَهُ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمااپنے لباس کو زعفران کے ساتھ رنگتے اور زعفران بطور تیل بھی ملتے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے کپڑے زعفران کے ساتھ کیوں رنگتے ہیں اور زعفران کو بطور تیل کیوں استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام رنگوں میں سب سے پیارا رنگ زعفران تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کپڑوں پر لگاتے تھے اور بطورِ تیل بھی استعمال کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7932]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه بنحوه ابوداود: 4064، والنسائي: 8/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5717»
وضاحت: فوائد: … بطورِ تیل لگانے سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ذریعے بالوں کو رنگتے تھے، ابوداود کی روایت میںوضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داڑھی مبارک رنگتے تھے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7932 in Urdu