الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء فى الذهب والفضة والحرير وما يجوز استعماله منهما وما لا يجوز
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 7949
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَرْكَبُهَا وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ ایسے گدیلے رکھ کر سوار ہو تا ہوں، نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں، جس کے کناے ریشم کے ہوں اور نہ ریشمی لباس پہنوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7949]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14682 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14738»
وضاحت: فوائد: … ہم نے الْاُرْجُوَانِ کے معانی سرخ کے کیے ہیں، دراصل یہ لفظ ارغوان سے معرب ہے، یہ سرخ رنگ کا پھول ہوتا ہے، گدیلوں کو ارغوان کہنے کا مطلب رنگ میں تشبیہ دینا ہے، یعنی سرخ رنگ کے گدیلے، پہلے گزر چکا ہے کہ میثرۃ (گدیلا) سے روکنے کی وجہ ریشم تھا جو اس کی بنتی میں استعمال ہوتا تھا۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7949 in Urdu