الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَنْعِ النِّسَاءِ مِنَ التَّحَلَّى بِالذَّهَبِ وَجَوَارِهِ لَهُنَّ بِالْفِضَّةِ
خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7989
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ طَوْقٌ مِنْ نَارٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ قَالَتْ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ قُرْطَانِ مِنْ نَارٍ قَالَ وَكَانَ عَلَيْهَا سِوَارٌ مِنْ ذَهَبٍ فَرَمَتْ بِهِ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ إِحْدَانَا إِذَا لَمْ تَزَيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ قَالَ فَقَالَ مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُصَفِّرُهُمَا بِالزَّعْفَرَانِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا سونا کا طوق بنانا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو آگ کا طوق ہوگا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا سونے کے دو کنگن پہننا جائز ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو آگ کے دو کنگن ہوں گے۔ اس نے کہا: کیا سونے کی دو بالیاں جائز ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو آگ کی دو بالیاں ہیں۔ اس نے سونے کا ایک کنگن پہن رکھا تھا، یہ سن کر اسے پھینک کر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے اگر کوئی اپنے خاوند کے لئے نہ سنورے تو اس کے نزدیک اس کی قدر اور اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس سے کس چیز نے روک رکھا ہے کہ چاندی کی دو بالیاں بنوا کر ان کو زعفران سے رنگ لو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7989]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي زيد صاحب ابي ھريرة، أخرجه النسائي: 8/ 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9675»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي زيد صاحب ابي ھريرة
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7989 in Urdu