الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَنْعِ النِّسَاءِ مِنَ التَّحَلَّى بِالذَّهَبِ وَجَوَارِهِ لَهُنَّ بِالْفِضَّةِ
خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 8000
وَعَنْهَا أَيْضًا عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالَتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَنَا أَتُعْطِيَانِ زَكَاتَهُ قَالَتْ فَقُلْنَا لَا قَالَ أَمَا تَخَافَانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ أَسْوِرَةً مِنْ نَارٍ أَدِّيَا زَكَاتَهُ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اور میری خالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں، ہم نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس سے خوف نہیں آتا کہ ان کے عوض تمہیں اللہ تعالیٰ آگ کے دو کنگن پہنادے، ان کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8000]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي وشھر بن حوشب، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28166»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي وشھر بن حوشب
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8000 in Urdu