الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَا جَاءَ عَامًا فِي تَحْرِيمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ
سونے اور ریشم کی عام حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 8021
عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصَبِ وَالْكَتَّانِ مَا يَكْفِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ وَهَذَا رَجُلٌ فِيكُمْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُمْ يَا عُقْبَةُ فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ
۔ ہشام بن ابو رقیہ کہتے ہیں: میں نے مسلمہ بن مخلد سے سنا، وہ منبر پر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انھوں نے کہا: لوگو! کیا تمہارے پاس یمن کی چادریں اور السی کے کپڑے نہیں، کیا وہ ریشم سے کفایت نہیں کرتے،یہ تمہارے اندر ایک آدمی موجود ہے، یہ تمہیں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے آگاہ کرتا ہے، اے عقبہ! ذرا کھڑے ہو جاؤ، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8021]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 1751، والطبراني في الكبير: 17/ 904، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17567»
وضاحت: فوائد: … عَصَب (یمنی چادریں): ان سے مراد وہ کپڑا ہے، جس کا دھاگہ بٹ کر اس کو رنگا جاتا ہے اور پھر اس سے کپڑے بنے جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8021 in Urdu