الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب إباحة اليسير مِنَ الْحَرِيرِ كَالعَلَم وَالرقعه وَنَحْوِهَا
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 8045
عَنْ قَتَادَةَ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَشْيَاءَ يُحَدِّثُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا هَكَذَا وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَرَأَيْتُ أَنَّهَا أَزْرَارُ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْنَا الطَّيَالِسَةَ
۔ (دوسری سند) ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف کچھ احکام تحریر کر کے بھیجے، جو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کئے تھے، اس میں یہ بھی تحریر تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی آدمی دنیا میں ریشم پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو، مگر دو انگلیوں کے برابر۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا، ابو عثمان کہتے ہیں: جب ہم نے طیالسی لباس دیکھا تو ہم نے اندازہ کیا کہ اسی مقدار کے طیالسی لباس کے بٹن ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8045]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5830، ومسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 243»
وضاحت: فوائد: … عجموں کے ایک لباس کو طیالسہ کہتے ہیں، اس لباس کے ریشمی بٹن کی مقدار دو انگلیوں کے برابر تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5830
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8045 in Urdu