الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب إباحة اليسير من الحرير كالعلم والرقعه ونحوها
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 8050
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ أَيْضًا عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً طَيَالِسَةً عَلَيْهَا لِبْنَةٌ شِبْرٌ مِنْ دِيبَاجٍ كِسْرَوَانِيٍّ وَفَرْجَاهَا مَكْفُوفَانِ بِهِ قَالَتْ هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَمَّا قُبِضَتْ عَائِشَةُ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا يَسْتَشْفِي بِهَا
۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے طیالسی جبہ نکالا، اس کے دامن میں فارسی ریشم کا ٹکڑا لگا ہوا تھا اور اس کے چاک بھی ریشم کے تھے۔ کہا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبہ تھا،جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنا کرتے تھے، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا تھا، ہم اسے مریض کے لئے پانی میں ڈال کر اس کی برکت سے شفاء طلب کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8050]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27481»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2069
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8050 in Urdu