الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب ما جاء فى النهي عن التصوير و وعيد فاعله
تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان¤جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں¤تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8055
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ وَأَصْنَعُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا قَالَ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسٌ تُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاجْعَلِ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ
۔ سعید بن ابو حسن کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابن عباس! میں تصاویر بناتا ہوں، مجھے ان کے بارے میں فتویٰ دیجئے،انھوں نے کہا: میرے قریب آجا، پس وہ قریب ہو گیا، انھوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھااور کہا: میں تجھے اس بات کی خبر دیتا ہوں، جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مصور دوزخ میں جائے گا، اس نے جو تصویریں بنائی ہوں گی، ہر تصویر کے بدلے ایک جان بنائی جائے گا اور وہ اس کو جہنم میں عذاب دیتی رہے گی، اگر تو نے تصوریں بنانی ہی ہیں تو درخت اور غیر ذی روح چیز کی بنا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8055]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2225، ومسلم: 2110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2810»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2225
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8055 in Urdu