الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ جَرَسٌ أَوْ جُلْجُلْ ولا تَصْحَبُ رَكْبًا فِيهِ ذَلِكَ وَالنَّهْي عَنْ اِتِّخَاذِهِ
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنٹی یا گھونگرو ہو، نیز فرشتے¤اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں یہ چیزیں ہوں اور ان چیزوں کا اہتمام کرنے سے¤ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8073
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَوْلًى لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَهُ كَانَ يَقُودُ بِهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا سَمِعَتْ صَوْتَ الْجَرَسِ أَمَامَهَا قَالَتْ قِفْ بِي فَيَقِفُ حَتَّى لَا تَسْمَعَهُ وَإِذَا سَمِعَتْهُ وَرَاءَهَا قَالَتْ أَسْرِعْ بِي حَتَّى لَا أَسْمَعَهُ وَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَهُ تَابِعًا مِنَ الْجِنِّ
۔ مجاہد سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام نے ان کو بیان کیا اور اس نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سواری چلایا کرتا تھا، وہ جب بھی اپنے سامنے گھنٹی یا گھونگرو کی آواز سنتیں تو کہتیں: ٹھہر جاؤ،پس میں اتنی دیر ٹھہرا رہتا، جب تک ان کی آواز آنا بند نہ ہو جاتی اور اگر وہ اپنے پیچھے سے گھنٹی کی آواز سنتیں تو کہتیں: تیزی سے نکل جاؤ حتی کہ یہ آواز سنائی نہ دے، سیدہ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (گھونگرو وغیرہ کی) اس آواز کے پیچھے شیطان ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8073]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائشة، وعبد الكريم غير منسوب، فان كان ابنَ مالك الجزري، فھو ثقة، وان كان ابنَ ابي المخارق البصري فھو ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25703»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائشة
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8073 in Urdu