الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْختَان
فطرت والی سنتوں کے ابواب
حدیث نمبر: 8177
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقٌ بِالْمَاءِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ قَالَ زَكَرِيَّا قَالَ مُصْعَبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں فطرت سے ہیں، مونچھیں کٹوانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈال کر اس کو جھاڑنا، ناخن تراشنا اور انگلیوں کے جوڑوں اور پوروں کو اچھی طرح دھونا، بغلوں کے بال اکھاڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجاء کرنا۔ مصعب راوی کہتے ہیں: میں دسویں چیز بھول گیا ہوں، لگتا ہے کہ وہ کلی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8177]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 261، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25574»
وضاحت: فوائد: … بَرَاجِم: اس کی واحد بُرْجُمَۃ ہے، اس سے مراد وہ تمام جگہیں ہیں، جہاں میل کچیل جمع ہوتا ہے اور توجہ نہ کی جائے تو پانی وہاں نہیں پہنچتا، مثلا: انگلیوں کی گرہیں اور پورے، جسم کے دیگر جوڑ اور ہتھیلی کی لکیریں وغیرہ۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 261
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8177 in Urdu