الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بابٌ فِي أَرْكَانِ الإِسْلامِ وَدَعَائِمِهِ الْعِظَامِ
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
حدیث نمبر: 82
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَنْ يُؤْمِنَ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو گا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس چیز پر کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے، وہ اچھی ہو یا بری۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 82]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 2145، وابن ماجه: 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1112»
وضاحت: فوائد: … یہ چار امور دوسرے اعتقادات اور ایمانیات کو بھی مستلزم ہیں، مثلا: سابقہ انبیاء و رسل پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی تمام ہدایات کو بھی تسلیم کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 2145
Al-Fath al-Rabbani Hadith 82 in Urdu