الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَغْبِيْرِ الشَّيْبِ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ونحوهما
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
حدیث نمبر: 8210
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَفِي الْعَنْفَقَةِ وَفِي الرَّأْسِ وَفِي الصُّدْغَيْنِ شَيْئًا لَا يُكَادُ يُرَى وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8210]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13296»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہندی اور کتم وغیرہ لگانا یا نہ لگانا، اوپر دونوں قسم کی روایات گزری ہیں، مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، یعنی جن صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی وغیرہ نہیں لگاتے تھے، ان کی بات کو ان کے علم پر ہی محمول کریں گے،یعنی ان کو رنگنے کا علم نہ ہو سکا، بہرحال ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رنگنے اور نہ رنگنے، دونوں کا ثبوت ملتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2341
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8210 in Urdu