الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ النَّهْي عَنْ دُخُولِ مَنْزِلِ إِلَّا بِإِذْنِ صَاحِبِهِ ، وَعَنِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر¤ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8294
عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَ لَهُ فَتَكَلَّمَا فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا خَرَجَ الْمَوْلَى سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ عَمْرٌو نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَأْذِنَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا تاکہ یہ ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی عمرو کے لئے اجازت طلب کرے، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے ضرورت کے مطابق بات کی، جب وہ باہر نکلے تو غلام نے اس کی وجہ پوچھی کہ عمرو بغیر اجازت کے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس داخل کیوں نہیں ہوئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کی بیوی سے بات کرنے کے لیے اس سے اجازت لینے سے منع فرمایا، الا یہ کہ پہلے ان کے خاوندوں سے اجازت لی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8294]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 2779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17919»
وضاحت: فوائد: … یعنی شادی شدہ خاتون کی اجازت دے دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے پاس جانے سے پہلے اس کے خاوند سے اجازت طلب کی جائے اور پھر اس سے اجازت مانگی جائے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8294 in Urdu