الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بابُ مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْقَادِمِ
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 8317
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ قَالَ فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ قَالَ تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ حُكْمَ الْمَلِكِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ کے یہودی سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر متفق ہو گئے،(یعنی وہ جو فیصلہ کریں گے، ان کو منظور ہو گا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، پس وہ گدھے پر سوار ہو کر آ گئے اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ نے فرمایا: اے سعد! یہ بنو قریظہ کے یہودی تمہارے فیصلہ پر راضی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں (اور بیویوں) کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد تم نے تو وہ فیصلہ کیا ہے، جو اللہ بادشاہ کا فیصلہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8317]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4121، ومسلم: 1768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11185»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4121
حدیث نمبر: 8317M
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا طَلَعَ يَعْنِي سَعْدًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَيِّدُنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْكُمْ فِيهِمْ الْحَدِيثَ
۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو اور انہیں نیچے اتارو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارا سید اور سردار تو اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو۔ پس انھوں نے ان کو اتارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ …۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8317M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11703»
وضاحت: فوائد: … ذہن نشین کر لیں کہ صحابہ کرام کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لیے کھڑا ہونا محض ان کی تعظیم کے لیے نہیں تھا، بلکہ ان کو گدھے سے اتارنے کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا، کیونکہ وہ غزوۂ خندق کے موقع پر زخمی ہو گئے تھے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11703
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8317 in Urdu