الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب
قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان
حدیث نمبر: 8353
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ فَلَهُ أَجْرَانِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک پڑھتا ہے اور وہ اس میں ماہر ہو تو اس کا ساتھ سفید چہروں والے اور عزت والے نیکو کار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور وہ جو اسے پڑھتا ہے اور یہ اس پرگراں ہو تو اسے دہرا اجر ملے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8353]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:4937، ومسلم: 798، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24715»
وضاحت: فوائد: … قرآن کا ماہر وہ ہے کہ جس نے بہترین انداز میں حفظ مکمل کیا ہوا ہو، دورانِ تلاوت کوئی اٹکن نہ آتی ہو، عمدگی اور تجوید کی رو رعایت کر کے تلاوت کرتا ہو، سنتے وقت یوں لگتا ہو کہ قرآن مجید، قاری کی زبان پر تیر رہا ہے، جبکہ اس کے وجود پر قرآن کے عملی تقاضے کا حسن بھی نظر آتا ہو۔ دوہرے اجر سے تلاوت کا اجر اور مشقت برداشت کرنے کا اجر ہے۔حدیث کے دوسرے حصے کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی غلط ملط پڑھتا ہے، اس سے مراد وہ آدمی ہے، جس کی زبان مشکل سے ہی الفاظ ادا کر پاتی ہے، یا شروع شروع میں ناخواندگی کی وجہ سے مشکل ہوتی ہے۔ بہرحال ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیمِ قرآن کے حصول کے لیے اچھے مدرس کا اہتمام کرے
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:4937
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8353 in Urdu