الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقُولَهُ الْقَارِئُ عِنْدَ ذِكْرِ آيَةِ عَذَابٍ أَوْ رَحْمَةٍ وَعِنْدَ خَتْمِ بَعْضِ السُّوَرِ
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت¤قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
حدیث نمبر: 8384
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رحمت والی آیت کی تلاوت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، جب عذاب کے ذکر پر مشتمل آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کی گئی ہوتی تواس کی تسبیح بیان کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8384]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 772، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23650»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر توجہ کے ساتھ تلاوت کیا کرتے تھے کہ حسب ِ امکان آیات کے تقاضے بھی پورے کرتے جاتے۔ اس موضوع پر صرف یہی حدیث صحیح ہے کہ رحمت، عذاب اور تسبیح والی آیات پر مطلوبہ ذکر کرنا چاہیے، مقتدی کو چاہیے کہ وہ خاموش رہے اور امام کی قراء ت پر یہ دعائیں نہ کرے، کیونکہ قراء ت کے وقت مقتدی کے لیے خاموش رہنے کا عام حکم ہے، ما سوائے سورۂ فاتحہ کے، امام اور منفرد کو اس سنت پر عمل کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 772
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8384 in Urdu