🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب فى أن قلك كان رخصة ثم نسخ
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: ثَنَا زُهَيْرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدَرِيًّا، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ: يُفْتِي النَّاسَ بِرَأْيِهِ فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ، فَقَالَ: أَعْجِلْ بِهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ: يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ! أَوَ قَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَأْيِكَ، قَالَ: مَا فَعَلْتُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّ عُمُومَتِكَ؟ قَالَ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو أَيُّوبَ وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ: فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَقَالَ: مَا يَقُولُ هَٰذَا الْفَتَى؟ وَقَالَ زُهَيْرٌ: مَا يَقُولُ هَٰذَا الْغُلَامُ؟ فَقُلْتُ: كُنَّا نَفْعَلُهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِهِ فَلَمْ نَغْتَسِلْ، قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنَ الْمَاءِ إِلَّا رَجُلَيْنِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَا: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَٰذَا أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: فَتَحَطَّمَ عُمَرُ يَعْنِي تَغَيَّظَ ثُمَّ قَالَ: لَا يَبْلُغَنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ وَلَا يَغْتَسِلُ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً
سیدنا رفاعہ بن رافعؓ، جو کہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمرؓ کے پاس تھا، کسی نے ان سے کہا: سیدنا زید بن ثابت مسجد میں لوگوں کو اپنے رائے کی روشنی میں اس آدمی کے بارے فتوی دیتے ہیں جو مجامعت کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اس کو جلدی جلدی میرے پاس لے آؤ، پس وہ اس کو لے آئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: او اپنی جان کے دشمن! کیا تو اس حدتک پہنچ گیا ہے کہ تو نے لوگوں کو مسجد ِ نبوی میں اپنی رائے کی روشنی میں فتوی دینا شروع کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے تو ایسی کوئی کاروائی نہیں کی، البتہ میرے چچوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: کون سے تیرے چچے؟ انھوں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب اور سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہم۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: یہ نوجوان کیا کہتا ہے؟ میں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایسے ہی کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: تو پھر کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایسے ہی کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے۔ پھر انھوں نے لوگوں کو جمع کر کے یہ بات پوچھی، ہوا یوں کہ سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غسل کا پانی منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا تھا، ما سوائے دو آدمیوں سیدنا علی اور سیدنا معاذؓ کے، یہ دو کہتے تھے: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں اس چیز کو زیادہ جاننے والی ہیں، تو آپ نے سیدہ حفصہؓ کی طرف اس بارے میں پیغام بھیجا۔ انھوں نے جواباً کہا: مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، پھر انھوں نے سیدہ عائشہؓ کی طرف پیغام بھیجا، انھوں نے کہا: جب ختنے والی جگہ ختنے والی جگہ کو لگ جاتی ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول نہ ہونے پائے کہ کسی نے ایسا کام کیا ہو اور پھر غسل نہ کیا ہو، وگرنہ میں اسے سخت ترین سزا دوں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 840]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 58، والبزار: 3730، والطبراني في الكبير: 4537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21413»
وضاحت: فوائد: … مسئلہ تو بالکل واضح ہے، لیکن صحابۂ کرام کا مسئلہ حل کرنے کا انداز دیکھیں، جبکہ بیچ میں سیدنا عمرؓ بھی شریک تھے، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے امہات المؤمنین سے رابطہ کیا گیا، جب حدیث ِ مبارکہ کا پتہ چلا تو سیدنا عمرؓ نے اسی کو قانون قرار دیا۔ سبحان اللہ۔

الحكم على الحديث: صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 58


Al-Fath al-Rabbani Hadith 840 in Urdu