الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَعِيْدِ مَنْ جَادَلَ بِالْقُرْآنِ أَوْ تَأَوَّلَهُ أَوْ قَالَ فِيهِ بِرَابِهِ مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ
قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8463
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْكِتَابَ وَاللَّبَنَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَالُ الْكِتَابِ قَالَ يَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا فَقِيلَ وَمَا بَالُ اللَّبَنِ قَالَ أُنَاسٌ يُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَخْرُجُونَ مِنَ الْجَمَاعَاتِ وَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَاتِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر کتاب اور دودھ کے بارے میں ڈر ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے منافق بھی سیکھتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ایمانداروں سے جھگڑتے ہیں۔ پھر کسی نے کہا: دودھ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ دودھ پینے کے لئے باہر وادیوں میں چلے جائیں گے اور جماعت سے خارج ہو جائیں گے اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8463]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير: 17/ 816، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17451»
وضاحت: فوائد: … علم سے مراد یقینی دلیل، ظن غالب، نقلی دلیلیا شریعت کے مطابق عقلی دلیل ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير : 17/ 816
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8463 in Urdu