🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب ما جاء فى وعيد من جادل بالقرآن أو تأوله أو قال فيه برابه من غير علم
قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8466
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْصِفُهَا فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَضَيْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ وَفِي رِوَايَةٍ كَمَا قَاتَلَ عَلَى تَنْزِيلِهِ فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ قَالَ فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کررہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی مرمت کے لئے پیچھے رک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے رہے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلتے رہے، پھر آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ اس قرآن مجید کی تاویل و تفسیر کے مطابق لڑیں گے، جیسے میں لڑا ہوں۔ ہم نے گردنیں اٹھا کر دیکھا کیونکہ ہمارے اندر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ آدمی تو جوتا مرمت کرنے والا ہے۔ پس ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری سنانے کے لیے ان کے پاس گئے، تو گویا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ پہلے ہی سنے ہوئے تھے (اس لیے خوشی کا اظہار نہیں کیا)۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8466]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 64، وابويعلي: 1086، وابن حبان: 6937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11795»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر کافروں سے لڑائی کی، پھر اپنے دورِ خلافت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق خوارج سے لڑائی کی، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں بھی حق پر تھے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 64


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8466 in Urdu