الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِسْتِعَادَةِ قَبْلَ الْقِرَاثَةِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: «فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ»
قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھنے اور اللہ تعالی کے اس فرمان {فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}کا بیان
حدیث نمبر: 8470
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَقَاوَلَانِ وَأَحَدُهُمَا قَدْ غَضِبَ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ وَهُوَ يَقُولُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا ذَهَبَ عَنْهُ الشَّيْطَانُ قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ قُلْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ قَالَ هَلْ تَرَى بَأْسًا قَالَ مَا زَادَهُ عَلَى ذَلِكَ
۔ سیدنا سلیمان بن صرد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں کو سنا جو آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے باتیں کر رہے تھے، ان میں سے ایک غضب ناک ہوگیا اورسخت غصہ میں آ گیا اور اپنے ساتھی کو برا بھلا کہنے لگا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے، اگر یہ کہے گا تو اس کا شیطان دور چلا جائے گا۔ یہ سن کر ایک آدمی اس کے پاس آیا اور کہا: تو یہ کلمہ کہہ: أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ، لیکن اس نے آگے سے کہا: کیا تو مجھے پاگل سمجھتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8470]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6048، ومسلم: 2610، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27747»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری میں ہَلْ تَرَی بَأْسًا کی بجائے ھَلْ تَرٰی بِیْ جُنُوْنًا کے الفاظ ہیں۔ ممکن ہے یہ آدمی اکھڑ مزاج بدوؤں سے ہو یا ابھی تک دین کی سمجھ بوجھ اور شریعت ِمطہرہ کے انوار و برکات سے فیضیاب نہ ہوا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی منافق ہو۔ معلوم ہوا کہ غصے کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ پڑھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6048
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8470 in Urdu