🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب: وإذا قال إبراهيم رب أرني كيف تحي الـموتٰي
{وَاِذَا قَالَ اِبْرَاھِیْمُ رَبِّ اَرِنِیْ کِیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8522
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي [سورة البقرة: ٢٦٠]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب انھوں نے کہا: {رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَ لَکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ} اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ فرمایا اور کیا تونے یقین نہیں کیا؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8522]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4537، ومسلم: 151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8311»
وضاحت: فوائد: … امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یہ باب ثبت کیا ہے: باب زیادۃ طمأنینۃ القلب بتظاہر الأدلۃ فیہ (ظاہر دلائل کی وجہ سے دل کے اطمینان کے زیادہ ہونے کا بیان) پھر امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: شک کرنے سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے، سب سے بہترین اور صحیح ترین جواب وہ ہے جو امام شافعی کے شاگرد امام ابو ابراہیم مزنی اور دوسرے کئی اہل علم نے دیا ہے، ان کے جواب کا مفہوم یہ ہے: مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق میں شک کرنا محال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانا چاہتے ہیں: اگر انبیائے کرام کو شک ہو سکتا ہوتا میں شک کرنے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ مستحق ہوتا، پس تم جان لو کہ میں نے شک نہیں کیا، سو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی شک نہیں کیا۔ (شرح مسلم للنووی)
یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاجزی کا اظہار کر رہے تھے، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے عقائد مضبوط بنیادوں پر قائم تھے، ان کا مقصد علم الیقین سے عین الیقین کی طرف منتقل ہونا تھا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4537


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8522 in Urdu