🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب: الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم
{اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8597
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ [سورة الأنعام: ٨٢] شَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي تَعْنُونَ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [سورة لقمان: ١٣] إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ وَفِي لَفْظٍ لَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب یہ آیت نازل ہوئی: {الَّذِینَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ} … جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی آمیزش نہیں ہونے دی تو یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کون ہے جس نے خود پر ظلم نہ کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا مطلب وہ نہیں، جو تم سمجھ رہے ہو، کیا تم نے نیک بندے کی بات نہیں سنی؟ جب اس نے کہا تھا: {یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ} … اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو لقمان نے اپنے بیٹے سے کہی تھی: {لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ} … اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8597]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 32، 3360، 3428، ومسلم: 124، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4031»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۔} … وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو بڑے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا،یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔ صحابۂ کرام نے مطلق ظلم مراد لیا اور ہر گناہ کو ظلم کہتے ہیں، جبکہ اس مقام پر ظلم سے مراد شرک ہے اور صحابۂ کرام شرک جیسے ظلم سے بہت دور تھے، لہٰذا وہی امن پانے والے ہدایتیافتہ لوگ ہیں۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 32


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8597 in Urdu