🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ سَبَبٍ عَدْمٍ وُجُودِ الْبَسْمَلَةِ فِي أَوَّلِهَا
سورۂ توبہ اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کے نہ لکھنے کی وجہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8616
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آيَاتٍ مِنْ بَرَاءَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَعَثَهُ بِهَا لِيَقْرَأَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ثُمَّ دَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَيْثُمَا لَحِقْتَهُ فَخُذِ الْكِتَابَ مِنْهُ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَاقْرَأْهُ عَلَيْهِمْ فَلَحِقْتُهُ بِالْجُحْفَةِ فَأَخَذْتُ الْكِتَابَ مِنْهُ وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ لَا وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ جَاءَنِي فَقَالَ لَنْ يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سورۂ براء ت کی دس آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا کہ وہ مکہ والوں کے سامنے ان کی تلاوت کریں، پھر مجھے (علی کو) کو بلایا اور فرمایا: ابو بکر کو جا ملو، جہاں بھی تم ان کو ملو، ان سے یہ پیغام لے لینا اور پھر اہل مکہ کے سامنے جا کر پڑھ دینا۔ پس میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حجفہ میں جا ملا اور ان سے خط لے لیا۔ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹے تو پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، کوئی حکم نہیں ہے، بس جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ پیغام یا تو آپ خود پہنچائیں یا آپ کے خاندان کا کوئی آدمی پہنچائے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8616]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن جابر الحنفي، وحنش بن المعتمر الكناني ليس بالقوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1297»
وضاحت: فوائد: … اس اعلان کی درست صورت درج ذیل ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((بَعَثَنِی أَ بُو بَکْرٍ فِی تِلْکَ الْحَجَّۃِ فِی مُؤَذِّنِینَیَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًی أَ نْ لَا یَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفَ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ قَالَ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَ رْدَفَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلِیًّا فَأَ مَرَہُ أَ نْ یُؤَذِّنَ بِبَرَاء َۃ قَالَ أَ بُو ہُرَیْرَۃَ فَأَ ذَّنَ مَعَنَا عَلِیٌّ فِی أَ ہْل مِنًییَوْمَ النَّحْرِ لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَان۔)) سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس حج میں نحر والے دن اعلان کرنے والوں میں بھیجا، سو ہم نے مِنٰی میں اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی آدمی ننگی حالت میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتا۔ حمید بن عبد الرحمن نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کو یہ حکم دیا کہ سورۂ براء ۃ والا اعلان کریں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس انھوں نے بھی مِنٰی میں نحر والے دن ہمارے ساتھ اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گااور کوئی ننگا آدمی طواف نہیں کرے گا۔ (صحیح بخاری: ۴۶۵۵)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف محمد بن جابر الحنفي


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8616 in Urdu